حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نئی دہلی/ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سہارنپور کلکٹریٹ کے احاطے میں واقع ایک صدی سے زائد قدیم مسجد کے انہدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی اور انصاف کے بنیادی تقاضوں کے منافی قرار دیا ہے۔
بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے کہا کہ سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے 16 جولائی 2026 کو مسجد کو سرکاری زمین پر غیر مجاز قبضہ قرار دیتے ہوئے بے دخلی کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف مسجد انتظامیہ نے ضلعی عدالت سے رجوع کیا۔ ضلعی عدالت نے 2/ ستمبر کو اپیل مسترد کرتے ہوئے سٹی مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔ تاہم 4/ستمبر کو ضلعی انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو یقین دلایا کہ مسجد کو صرف سیل کیا جائے گا، مگر اگلے ہی روز صبح چار بجے اسے منہدم کردیا گیا۔
ڈاکٹر الیاس نے کہا کہ بے دخلی کا حکم کسی مذہبی عمارت کو فوری طور پر منہدم کرنے کا جواز نہیں بن سکتا۔ اگر مسجد انتظامیہ کے پاس اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا قانونی حق باقی تھا تو اسے مؤثر قانونی چارہ جوئی کا موقع دئے بغیر مسجد منہدم کرنا انصاف اور قدرتی اصولوں کے منافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اگر زمین کی ملکیت کا دعویٰ کرتی ہے تو اسے بھی قانون، شفاف سماعت اور قدرتی انصاف کے اصولوں کی پابندی کرنا ہوگی۔ سرکاری زمین ہونے کا دعویٰ ریاست کو قانون سے بالاتر ہوکر کارروائی کا اختیار نہیں دیتا۔ آئین کے آرٹیکل 14/، 21/ اور 25/ بالترتیب مساوات، منصفانہ قانونی طریقۂ کار اور مذہبی آزادی کی ضمانت دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسجد کے انہدام کے بعد ملبے کے نیچے تقریباً 20 فٹ گہرا ایک قدیم کنواں بھی سامنے آیا ہے، جس کا ASI نے معائنہ کرکے نمونے حاصل کیے ہیں۔ اس پس منظر میں مسجد کی تاریخی حیثیت، سرکاری ریکارڈ اور زمین کی ملکیت کی غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔
ڈاکٹر الیاس نے مطالبہ کیا کہ:
* مسجد کے انہدام کے پورے عمل کی غیر جانب دارانہ قانونی تحقیقات کرائی جائیں۔
* مسجد کو منہدم کرنے کی قانونی بنیاد اور متعلقہ احکامات عوام کے سامنے لائے جائیں۔
* مسجد کی تاریخی حیثیت، زمین کے ریکارڈ اور وقف سے متعلق تمام دستاویزات کی مکمل جانچ کی جائے۔
* مسجد انتظامیہ کو اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنے کا مؤثر موقع دیا جائے۔
* قانون کی خلاف ورزی ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ مذہبی مقامات سے متعلق تنازعات کا حل بلڈوزر نہیں، بلکہ قانون، عدالت اور آئین ہے۔ قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ ریاست ہر شہری اور ہر مذہبی مقام کے ساتھ یکساں قانونی معیار اختیار کرے۔
بورڈ کو امید ہے کہ مسجد انتظامیہ اس معاملے کو اعلیٰ عدالتوں میں لے جائے گی اور عدالتیں اس کے قانونی و آئینی پہلوؤں کا گہرائی سے جائزہ لیں گی۔ بورڈ مسجد انتظامیہ کو ہر ممکن قانونی و اخلاقی تعاون فراہم کرے گا۔









آپ کا تبصرہ